طوطا چشم

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ضرورت پڑنے پر آنکھیں پھیرنے والا، بے مروت، بے وفا۔      "یہاں کے لوگ طوطا چشم تھے جو چودھری مہتاب دین سے کنی کترا کر گزر جاتے تھے۔"     رجوع کریں:   ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٧٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'طوطا' کے ساتھ فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'چشم' لگانے سے مرکب 'طوطا چشم' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٣٦ء کو "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ضرورت پڑنے پر آنکھیں پھیرنے والا، بے مروت، بے وفا۔      "یہاں کے لوگ طوطا چشم تھے جو چودھری مہتاب دین سے کنی کترا کر گزر جاتے تھے۔"     رجوع کریں:   ( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٧٣ )